اسلام آباد: پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگوینا کے سفیر ایمن کوہوڈاریوچ نے سریبرینیکا نسل کشی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 1995 میں شہید ہونے والے آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس سانحے کو ہولوکاسٹ کے بعد یورپ میں ہونے والا سب سے بڑا جرم قرار دیا۔

سریبرینیکا نسل کشی کی 31ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سفیر نے کہا کہ جولائی 1995 میں منظم انداز میں ہزاروں بے گناہ افراد کو قتل کیا گیا، جبکہ اس سال مزید 10 نئے شناخت شدہ متاثرین کو سریبرینیکا کے قریب پوٹوکاری میموریل سینٹر میں سپردِ خاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان متاثرین کی باقیات اجتماعی قبروں اور مختلف مقامات سے ملنے والے انسانی اعضا کی مدد سے شناخت کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ مجرموں نے جرم چھپانے کے لیے لاشوں کو ایک قبر سے دوسری قبر منتقل کیا، تاہم وہ حقیقت کو چھپانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
سفیر ایمن کوہوڈاریوچ نے کہا کہ سریبرینیکا کا قتلِ عام دراصل 1992 میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران بوسنیا میں ہونے والی نسلی تطہیر، ظلم و ستم اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے سلسلے کا المناک انجام تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہولوکاسٹ کے بعد دنیا نے "دوبارہ کبھی نہیں” کا عہد کیا تھا، لیکن اس کے باوجود روانڈا اور سریبرینیکا جیسے سانحات رونما ہوئے، جس سے یہ نعرہ اپنی حقیقی معنویت کھوتا دکھائی دیتا ہے۔
بوسنیائی سفیر نے مشکل وقت میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران انسانی امداد، اقوام متحدہ میں سفارتی حمایت، امن مشنز میں کردار اور جنگ کے بعد بوسنیا کی تعمیرِ نو میں قابلِ قدر تعاون فراہم کیا، جسے بوسنیائی عوام ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مئی 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی اس قرارداد پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جس کے تحت 11 جولائی کو سریبرینیکا نسل کشی کی یاد اور عکاسی کا عالمی دن قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ قرارداد اقوام متحدہ کا ایک اہم اخلاقی، تاریخی اور انسانی اقدام ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے زور دیا کہ سریبرینیکا نسل کشی کے حقائق بین الاقوامی اور ملکی عدالتوں کے فیصلوں سے ثابت ہو چکے ہیں، اس لیے اس سانحے سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ سچائی کو زندہ رکھیں، تحقیق کریں، تاریخ کو یاد رکھیں اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
