انقرہ/دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی فوجی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والا عبوری مفاہمتی معاہدہ (MOU) اب مؤثر نہیں رہا اور ان کے نزدیک یہ "ختم” ہو چکا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت ان کے نزدیک وقت کا ضیاع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے متعدد فوجی اہداف پر فضائی کارروائیاں کیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق کارروائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب سے منسلک متعدد اہداف، جن میں درجنوں تیز رفتار کشتیاں بھی شامل تھیں، کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی پر حملوں کے جواب میں ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا تھا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور ایک امریکی MQ-9 ڈرون بھی مار گرایا، تاہم بحرین کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔
ادھر ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائی حملے، ایرانی تیل پر پابندیوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی دباؤ یا دھونس کے سامنے نہیں جھکے گا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو تو اس کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں نے پہلے سے پیچیدہ سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔
تازہ کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی نمایاں ہوئے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد آئل اور گیس ٹینکروں نے اپنا سفر مؤخر یا تبدیل کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خرگ جزیرہ، قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
