ریاض: سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر “ودیان” اور قطری ٹینکر “الرقیات” کو مبینہ طور پر ایران کی جانب سے نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی بحری سلامتی اور توانائی کی ترسیل پر حملہ قرار دیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائی ناقابلِ قبول ہے اور اس سے بین الاقوامی بحری جہاز رانی، سمندری سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قانون، عالمی ضابطوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، جو بحری گزرگاہوں میں آزاد اور محفوظ آمدورفت کی ضمانت دیتی ہیں۔
سعودی عرب نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام اقدامات بند کرے جو خطے کے امن و استحکام، عالمی بحری سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ان حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب خبر جاری ہونے تک ایران کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
