واشنگٹن / مسقط: عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی آئل ٹینکر پر حملے اور اس میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد امریکا نے ایران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق دو امریکی حکام نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، الزام لگایا ہے کہ ایرانی فوج نے کم از کم دو میزائل تجارتی بحری جہازوں کی جانب داغے۔
امریکی حکام کے مطابق حملے کی زد میں دو تجارتی جہاز آئے، جنہیں شدید نقصان پہنچا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر جوابی کارروائیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب امریکا کی حمایت سے عمانی سمندری حدود میں ایک نئی بحری راہداری کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔
ایران نے اس منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی روح کے خلاف ہے۔
اس سے قبل عمان کے قریب ایک تجارتی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی فریق نے قبول نہیں کی تھی۔
تاحال ایران نے امریکی حکام کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
