یمن کے مغربی ساحلی صوبے الحدیدہ میں ایران سے منسلک حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان ایک بار پھر شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 14 سرکاری فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ جھڑپیں الحدیدہ کے جنوبی ضلع حیس میں اس وقت شروع ہوئیں جب حوثی جنگجوؤں نے سرکاری فوج کی پوزیشنوں پر اچانک حملہ کر دیا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حوثیوں کے حملے کو پسپا کر دیا، تاہم اس دوران 14 فوجی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں حوثی جنگجوؤں کو بھی جانی نقصان پہنچا، تاہم ان کی ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ حوثی گروپ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
الحدیدہ اور اس کے گردونواح کے علاقے یمن کی طویل خانہ جنگی کے دوران اہم ترین محاذوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں ماضی میں بھی متعدد خونریز جھڑپیں اور فوجی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ لڑائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یمن میں جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود زمینی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے، جبکہ سیاسی مذاکرات اور دیرپا امن کے امکانات کو مسلسل نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
