امریکا کے شہر نیویارک میں واقع اقوام متحدہ (UN) کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک جلاوطن تبتی شہری نے چین کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا کر جان دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے سے قبل مذکورہ شخص تبت کا قومی پرچم اپنے ہمراہ لایا اور اسے ایک کھمبے پر نصب کیا، جس کے بعد اس نے خود پر آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگا لی۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے تقریباً ایک منٹ بعد فائر بریگیڈ اور ہنگامی امدادی اہلکار موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پایا، تاہم اس وقت تک وہ شخص شدید جھلس چکا تھا اور زمین پر گر چکا تھا۔
تبتی میڈیا ادارے وائس آف تبت کے مطابق خودسوزی کرنے والے شخص کی شناخت لوبگا رنگزن کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک تبتی کارکن تھے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے خودسوزی سے قبل تبت کی آزادی، قومی اتحاد اور چینی حکمرانی کے خاتمے کے حق میں براہ راست اپیل کی تھی۔
تبت کی جلاوطن پارلیمنٹ کے رکن گونپو دھونڈوپ نے اپنے بیان میں کہا کہ لوبگا رنگزن نے تبت پر چین کے کنٹرول اور تبتی عوام پر مبینہ جبر کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی جان قربان کی۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تبت کے مسئلے، انسانی حقوق اور خطے میں سیاسی آزادیوں سے متعلق بین الاقوامی سطح پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔
