بحرین میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی زیرِ قیادت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی دفاعی اجلاس میں امریکا، سعودی عرب، قطر، عمان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اجلاس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، بحری راستوں کے تحفظ، دفاعی تعاون میں اضافے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شریک ممالک نے اس امر پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارتی سپلائی چین کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، لہٰذا اس کی سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود شراکت دار ممالک کے ساتھ مسلسل تعاون، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی اقدامات کے ذریعے بحری راستوں کی حفاظت اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری، دفاعی ہم آہنگی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس سمندری گزرگاہ کی سلامتی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شریک ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقائی سلامتی، بین الاقوامی تجارت کے تحفظ اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔
