پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دونوں ممالک کی 117 ممتاز سیاسی، سفارتی، تعلیمی اور سماجی شخصیات نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مشترکہ خط ارسال کرتے ہوئے مذاکرات، سفارتی روابط اور عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مشترکہ خط پر بھارت کی 61 اور پاکستان کی 56 نمایاں شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔ یہ اقدام سنٹر فار پیس اینڈ پروگرام کے صدر او پی شاہ کی جانب سے کیا گیا۔
بھارت کی جانب سے خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق وزیراعلیٰ جموں و کشمیر فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میرواعظ عمر فاروق، کانگریس رہنما منی شنکر ایئر، راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا، سابق انٹیلی جنس سربراہ اے ایس دُلت سمیت متعدد ماہرین تعلیم، صحافی، وکلا اور سماجی کارکن شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، ممتاز سائنسدان پرویز ہودبھائی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات نے اس اپیل کی حمایت کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت دنیا کی تقریباً پانچویں آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور دونوں ممالک کی بڑی نوجوان آبادی مسلسل کشیدگی کے باعث ترقی، روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہی ہے۔
دستخط کنندگان نے دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز کی دوبارہ تعیناتی کے ذریعے مکمل سفارتی تعلقات بحال کیے جائیں، عام شہریوں کے لیے ویزا خدمات دوبارہ شروع کی جائیں اور مذہبی، ثقافتی اور عوامی سطح کے تبادلوں کو آسان بنایا جائے۔
خط میں کشمیری پنڈتوں کے مقدس مقام شاردا پیٹھ کو زائرین کے لیے کھولنے، دونوں ممالک کے میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
دستخط کنندگان نے واضح کیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی حمایت کے لیے نہیں بلکہ تقریباً دو ارب افراد کے بہتر مستقبل، علاقائی امن اور جنوبی ایشیا کے استحکام کے مفاد میں کی گئی ہے۔
دوسری جانب راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا نے پاک بھارت عوامی رابطوں کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں اپنے طور پر سیکیورٹی، سندھ طاس معاہدے اور دیگر حساس معاملات پر فیصلے کر سکتی ہیں، تاہم فن، موسیقی، ثقافت اور عوامی روابط کو سیاسی کشیدگی اور ویزا پابندیوں کا یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستیں اور عوام الگ ہوتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور عوامی روابط کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ منوج جھا نے پہلگام حملے کی تحقیقات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حملے کے اصل ذمہ داروں اور سازش کرنے والوں کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
