پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پہلی کارروائی ضلع خاران میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے نتیجے میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری کارروائی ضلع مستونگ میں کی گئی، جہاں فورسز نے ایک خودکش بمبار سمیت مزید پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈیز) اور ان کے زیر استعمال موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔
فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ خطے کو مکمل طور پر دہشت گردی سے پاک کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ کارروائیوں کا ہدف بننے والے دہشت گرد بھارت کی سرپرستی میں سرگرم تھے۔ تاہم اس حوالے سے بھارت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حالیہ برسوں کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، غیر ملکی ماہرین، ترقیاتی منصوبوں اور عام شہریوں کو بارہا نشانہ بنایا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ بھی بلوچستان میں ایک مسافر ٹرین پر خودکش حملے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
