کوئٹہ: بلوچستان میں دو ماہ قبل اغوا ہونے والے ترک شہری کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر وہ اپنے وطن ترکی روانہ ہو گئے اور اپنے اہلِ خانہ سے جا ملے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ترک شہری صالح گلجمال بلوچستان کے معدنی وسائل سے مالا مال ضلع چاغی میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (NRL) کے ساتھ بطور ڈرلنگ آپریٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں 23 اپریل کو درجنوں مسلح افراد کی جانب سے کان کنی کے مقام پر کیے گئے حملے کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس دہشت گرد حملے میں 10 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بتایا کہ مغوی ترک شہری کو تقریباً چھ روز قبل ضلع مستونگ کے علاقے کِلن پسند خان سے بازیاب کرایا گیا، جو مستونگ شہر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور پہاڑی علاقہ ہے۔ بعد ازاں انہیں کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد وہ بحفاظت ترکی روانہ ہو گئے۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ صالح گلجمال کو سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران بازیاب کرایا گیا یا اغوا کاروں نے انہیں ازخود رہا کیا۔ تاحال چاغی میں ہونے والے حملے اور اغوا کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان میں اغوا کے دیگر واقعات بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل پاکستان ائیرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ایک اہلکار محمد وسیم کی لاش ضلع قلات سے برآمد ہوئی تھی، جنہیں گزشتہ ماہ کوئٹہ-کراچی شاہراہ سے اغوا کیا گیا تھا۔
اسی دوران گزشتہ ماہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت چار ملازمین کو بھی ضلع مستونگ سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی صورتحال اور اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حکام کے لیے امن و امان کی بحالی کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے، جبکہ غیر ملکی ماہرین اور سرمایہ کاروں کی سکیورٹی بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
English Tags:
Balochistan, Turkey, Turkish National, Chagai, Mastung, Quetta, National Resources Limited, NRL, Kidnapping, Pakistan Security, Mining Project, Turkish Engineer, Rescue Operation, Law and Order, Foreign Workers
