لاہور: پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس کے بعد معروف مذہبی اسکالر ناصر مدنی نے اپنے متنازع بیان سے رجوع کرتے ہوئے عوامی سطح پر معذرت کا اظہار کر دیا ہے۔
چند روز قبل پنجابی زبان میں اپنے نعتیہ اور مذہبی بیانات کی وجہ سے شہرت رکھنے والے ناصر مدنی نے اپنے ایک بیان میں اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق تبصرہ کیا تھا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ اس بیان کے بعد مومنہ اقبال نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا، جبکہ اس مقدمے کی پیروی ان کی بہن اور وکیل رمشہ اقبال نے کی۔
اب ایک نئے ویڈیو بیان میں ناصر مدنی نے اپنے سابقہ مؤقف پر نظرثانی کرتے ہوئے مومنہ اقبال اور ان کے اہلِ خانہ سے معافی مانگ لی۔
ناصر مدنی نے کہا، "میں مومنہ اقبال صاحبہ اور ان کے اہلِ خانہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم بھی آپ سے معذرت خواہ ہیں۔ اگر میری کسی بات سے آپ کو ذاتی طور پر دکھ پہنچا ہو تو یہاں موجود ہم سب آپ سے معافی مانگتے ہیں۔ ہم عوامی طور پر معذرت کرتے ہیں اور اپنی تمام بیٹیوں سے کہتے ہیں کہ وہ دوسری بیٹیوں کے لیے بھی آواز بلند کریں۔”
انہوں نے رمشہ اقبال کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے شعبے میں ایک معتبر نام ہیں اور انہیں تمام پاکستانی بیٹیوں کے حقوق اور عزت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔
ناصر مدنی نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی بیٹی کی عزت و وقار کا تحفظ معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی خاتون کی عزت کو متنازع موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، "بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور احترام و عزت کی مستحق ہیں۔”
دوسری جانب ناصر مدنی کے معذرتی بیان پر سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین نے اسے اپنی غلطی تسلیم کرنے کا مثبت اقدام قرار دیا، جبکہ دیگر نے مومنہ اقبال کے قانونی مؤقف اور اپنی ساکھ کے دفاع کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف غیر مصدقہ یا توہین آمیز بیانات کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ مومنہ اقبال نے اس سے قبل ناصر مدنی کو قانونی نوٹس بھجوا کر ان سے اپنے الزامات واپس لینے، معافی مانگنے اور ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
