امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ترکی کو 700 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے جیٹ انجن فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، حالانکہ اس مجوزہ معاہدے پر بعض امریکی قانون سازوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو باخبر ذرائع اور کانگریس کو بھیجے گئے سرکاری نوٹیفکیشن سے ہوئی ہے۔ اس سے قبل رائٹرز نے بدھ کے روز رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ 2019 میں ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے معاملے پر موجود سیاسی اعتراضات کے باوجود اس دفاعی معاہدے کو آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
امریکی قانون سازوں کی جانب سے اعتراضات کی بنیادی وجہ ترکی کا اب بھی روسی ایس-400 میزائل دفاعی نظام اپنے پاس رکھنا ہے، جس پر ماضی میں واشنگٹن نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انقرہ کو ایف-35 جنگی طیارہ پروگرام سے بھی خارج کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ آئندہ ماہ ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ترکی کے لیے ایک اہم سفارتی اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترک صدر رجب طیب اردوان کو خطے میں ایک اہم اتحادی قرار دیتے رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات بھی اس فیصلے میں اہم کردار سمجھے جا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فروخت مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے امریکا اور ترکی کے دفاعی تعاون میں نئی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، اگرچہ روسی دفاعی نظام کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، جبکہ کانگریس میں اس مجوزہ معاہدے پر مزید بحث متوقع ہے۔
