Table of Contents
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ایوانِ صدر میں ایک اہم ترین ملاقات ہوئی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن و استحکام اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی و اقتصادی روابط اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں طے پانے والی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad MoU) پر دستخط کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعمیری سفارتکاری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے گا۔
ایران کی خودمختاری کی حمایت اور مسلم اُمہ کا اتحاد
صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی یکجہتی کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا "پاکستان نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی مسائل کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو ہی سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا ہے۔ مسلم اُمہ کا اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ترین ستون ہیں۔”
ایران مشکل حالات میں پاکستان کی حمایت کا معترف
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں امن اور سفارتی مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مشکل حالات میں پاکستان کی مخلصانہ حمایت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور علاقائی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر صدر زرداری نے ایرانی سپریم لیڈر اور قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے مابین تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔
