کولمبیا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں قوم پرست اور دائیں بازو کے امیدوار Abelardo De La Espriella نے ابتدائی ووٹوں کی گنتی کے مطابق کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump کی حمایت یافتہ شخصیت سمجھے جانے والے ڈی لا ایسپریلا نے انتہائی سخت مقابلے کے بعد اپنے حریف Ivan Cepeda کو شکست دی
ابتدائی نتائج کے مطابق تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے 49.66 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ایوان سیپیڈا کو 48.70 فیصد ووٹ ملے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان فرق تقریباً ڈھائی لاکھ ووٹوں کا رہا۔
بارانکویلا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ وہ صرف اپنے ووٹروں کے نہیں بلکہ پورے کولمبیا کے صدر ہوں گے۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبارکبادی کال کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران ان کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
46 سالہ انجینئر ویویانا اولیووس، جو جشن میں شریک تھیں، نے کہا کہ یہ کولمبیا کے لیے ایک نئی شروعات ہے اور گزشتہ چند برسوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد تبدیلی کا موقع ہے۔
اپنے حامیوں میں "ایل ٹائیگر” کے نام سے مشہور ڈی لا ایسپریلا نے انتخابی مہم کے دوران جرائم کے خاتمے، معیشت کی بحالی اور ریاستی اخراجات میں کمی کے وعدوں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کی۔ انہوں نے موجودہ صدر Gustavo Petro کو ملک کی اقتصادی اور سکیورٹی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیا۔
انہوں نے تیل اور گیس کے شعبے کو فروغ دینے، ٹیکسوں میں کمی، ریاستی اداروں کے حجم میں 40 فیصد تک کمی اور مسلح باغی گروپوں کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن کے لیے فوجی طاقت اور سخت سکیورٹی پالیسی زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔
ڈی لا ایسپریلا تیل کی تلاش کے منصوبے دوبارہ شروع کرنے اور فریکنگ کے ذریعے ملکی تیل کی پیداوار کو تقریباً دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایوان سیپیڈا نے بوگوٹا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حتمی سرکاری نتائج اور بیلٹ بہ بیلٹ تصدیق کا انتظار کریں گے۔ کولمبیا کے انتخابی قوانین کے مطابق سرکاری تصدیق نوٹریوں اور عدالتی حکام کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ ڈی لا ایسپریلا نے معمولی برتری حاصل کی ہے، تاہم منقسم کانگریس کے باعث انہیں اپنی بعض سخت پالیسیوں میں نرمی لانا پڑ سکتی ہے۔ نئی حکومت کو بلند عوامی قرضوں، معاشی دباؤ اور سکیورٹی کے پیچیدہ مسائل جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
یہ انتخاب کولمبیا کی سیاست میں ایک بڑے رخ کی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ملک بائیں بازو کی پالیسیوں سے دائیں بازو کے سخت گیر اور کاروبار دوست ماڈل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
