پاکستانی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز تہران پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے (ISNA) کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی ثالثی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کو مستحکم بنانا اور آئندہ مذاکراتی مرحلے کے لیے موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آئی ایس این اے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں تصدیق کی کہ محسن نقوی کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والی نئی سفارتی فضا کو برقرار رکھنے اور مذاکراتی عمل میں پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ اپنے دورہ تہران کے دوران ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ الگ الگ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی صورتحال، جوہری مذاکرات، پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق پاکستان گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے میں ایک مؤثر اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ممکن ہوئے، جس کے تحت ساٹھ روزہ مذاکراتی عمل کے ذریعے ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ابتدائی مفاہمت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ آئندہ تکنیکی مذاکرات میں جوہری پروگرام کی تفصیلات، یورینیم افزودگی کی سطح، بین الاقوامی نگرانی، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کئی بنیادی امور پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعض تکنیکی اور سیاسی اختلافات اب بھی موجود ہیں، جنہیں حل کیے بغیر کسی حتمی اور قانونی طور پر پابند معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی تناظر میں پاکستان کی کوشش ہے کہ مذاکراتی عمل کو کسی بھی تعطل یا نئی کشیدگی سے محفوظ رکھا جائے اور ایسے تمام عوامل کا بروقت سدباب کیا جائے جو معاہدے کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا تہران مشن پاکستان کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت اسلام آباد خطے میں کشیدگی کے خاتمے، سفارتی حل اور مذاکراتی عمل کے فروغ کو ترجیح دے رہا ہے۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے اسے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر ثالث اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
