واشنگٹن — وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل (NSC) کے یورپ امور کے سربراہ چارلس میک لافلن کی روانگی متوقع ہے، جو امریکی انتظامیہ میں ایک وسیع تر داخلی تنظیم نو کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب قومی سلامتی کونسل کے اندر اہم عہدوں پر نئے تقرر اور تبادلے کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کی ٹیم کا پالیسی سازی پر اثر مزید بڑھنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق میک لافلن کی رخصتی کے بعد NSC میں کئی دیگر اعلیٰ سطحی تبدیلیاں بھی متوقع ہیں، جس سے یہ ادارہ دوبارہ امریکی خارجہ پالیسی کے مرکز کے طور پر مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے۔
چارلس میک لافلن یورپی اور روسی امور کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں یورپی پالیسی سازی میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ان کی روانگی کی اصل وجوہات واضح نہیں ہو سکیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ میک لافلن نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) واپس جا رہے ہیں، جہاں وہ پہلے بھی تدریسی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں NSC کے اندر متعدد اہم اہلکاروں کی تبدیلیاں ہوئی ہیں، جس کے بعد اس ادارے کا کردار ماضی کے مقابلے میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کچھ یورپی حکام نے میک لافلن کو ایک پیشہ ور اور متوازن شخصیت قرار دیا ہے، تاہم بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ امریکی پالیسی میں روس کے حوالے سے نرم رویہ اپنایا جا رہا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میک لافلن نے صدر ٹرمپ کے امن ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے اور ان کے حوالے سے کی جانے والی بعض قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ردوبدل امریکی قومی سلامتی پالیسی کے اندر طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے اثرات یورپی اتحادیوں اور روس پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
