اسلام آباد نے امریکی میڈیا رپورٹس میں کیے گئے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فوجی طیارے پاکستانی فضائی اڈوں پر موجود ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ تمام رپورٹس “گمراہ کن اور حقائق کے منافی” ہیں اور ان کا مقصد پاکستان کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے منگل کو جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ نور خان ایئر بیس پر پہنچنے والے ایرانی طیارے کسی فوجی سرگرمی کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد صرف سفارتی عملے کی منتقلی اور لاجسٹک سہولت فراہم کرنا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ طیارے عارضی طور پر موجود تھے اور ان کا کسی بھی عسکری یا دفاعی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکرات کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اسی تناظر میں سفارتی رابطوں میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان کا کردار مکمل طور پر غیر جانبدار اور امن پر مبنی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جس سے نہ صرف غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی اڈوں پر ایرانی طیاروں کی موجودگی انہیں ممکنہ فضائی حملوں سے بچانے کے لیے تھی، تاہم پاکستان نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششیں خطے میں استحکام، کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ پر مرکوز ہیں، اور وہ کسی بھی فریق کے خلاف استعمال ہونے والی سرزمین کے تصور کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔
