تائیوان کے صدر Lai Ching-te نے افریقی ملک Eswatini کا اچانک اور غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے، جس پر China نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
تائیوان کے صدارتی دفتر کے مطابق صدر لائی نے اسواٹینی کے بادشاہ Mswati III سے ملاقات کے دوران کہا کہ تائیوان کے 2 کروڑ 30 لاکھ عوام کو عالمی برادری سے روابط رکھنے کا حق حاصل ہے اور کوئی ملک انہیں اس سے محروم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تائیوان ایک خودمختار ریاست ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کے مطابق بیجنگ نے اس سفر کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ ماہ تائیوان نے دعویٰ کیا تھا کہ چین نے بحرِ ہند کے تین ممالک پر دباؤ ڈال کر صدارتی طیارے کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت منسوخ کروائی۔
واضح رہے کہ Eswatini (سابقہ سوازی لینڈ) ان چند ممالک میں شامل ہے جو تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، اور اس کی آبادی تقریباً 13 لاکھ ہے۔
تائیوانی حکام کے مطابق یہ دورہ خفیہ رکھا گیا اور صدر لائی اسواٹینی حکومت کے طیارے میں وہاں پہنچے۔ ایک سینئر سکیورٹی اہلکار کے مطابق ایسے غیر اعلانیہ دورے اعلیٰ سطحی سفارت کاری میں اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ بیرونی مداخلت کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
دوسری جانب چین کے تائیوان امور کے دفتر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لائی چنگ تے “چھپ کر” اسواٹینی پہنچے اور ان کا یہ طرزِ عمل قابلِ مذمت ہے۔ چینی حکام نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر قابلِ تمسخر قرار دیا۔
اس کے جواب میں تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل نے واضح کیا کہ صدر لائی کو کسی بھی ملک کے دورے کے لیے بیجنگ کی اجازت درکار نہیں، اور چین کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کو مسترد کر دیا۔
یاد رہے کہ چین One China policy کے تحت تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ مغربی ممالک اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ گزشتہ ماہ United States سمیت European Union، United Kingdom، France اور Germany نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت تائیوان اور چین کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں طاقت کا توازن ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔
