Table of Contents
انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل اور پاکستان علماء کونسل کی اپیل پر یومِ مذمت منایا گیا۔ پاکستان، کویت اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں اجتماعات ہوئے۔
جمعے کے خطبات میں حوثی حملوں کی مذمت کی گئی۔ مقررین نے سعودی عرب کی شہری آبادی، ہوائی اڈوں اور دفاعی تنصیبات پر حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی بھی مذمت کی۔
حرمین شریفین کا تحفظ پوری امت کی ذمہ داری
علمائے کرام، مشائخ اور خطباء نے اجتماعات سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت پوری امتِ مسلمہ کے لیے مقدم ہے۔
مقررین کے مطابق، مقدس مقامات اور شہری آبادیوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ زائرین کا تحفظ اور بے گناہ انسانوں کی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
علمائے کرام نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے حوثی حملوں کی مذمت کو کسی مسلک یا مکتبِ فکر کے خلاف مؤقف قرار دینے سے بھی گریز کرنے پر زور دیا۔
ان کے مطابق، دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کے خلاف آواز اٹھانا سب کی ذمہ داری ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی سمیت علمائے کرام کے خطابات
لاہور میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے خطاب کیا۔ وہ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل کے جنرل سیکرٹری ہیں۔
اجتماعات سے مولانا محمد رفیق جامی (فیصل آباد)، مولانا نعمان حاشر (اسلام آباد)، مولانا اسعد زکریا قاسمی (کراچی) اور مولانا محمد شفیع قاسمی (اوکاڑہ) نے بھی خطاب کیا۔
دیگر مقررین میں مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا ابو بکر حمید صابری، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا عزیز اکبر قاسمی اور مولانا حق نواز خالد شامل تھے۔ مولانا عبید اللہ گورمانی، علامہ طاہر الحسن، مولانا حنیف عثمانی اور مولانا محمد اصغر کھوسہ بھی ان میں شامل تھے۔
مولانا انوار الحق مجاہد، مولانا عبد المالک آصف، مولانا اسلم صدیقی، مولانا عبد الحکیم اطہر اور مولانا عبد اللہ حقانی نے بھی شرکت کی۔ مولانا عبد الوحید فاروقی، مولانا ابو بکر حمزہ، مولانا حبیب الرحمن عابد اور مولانا اظہار الحق خالد بھی مقررین میں شامل تھے۔
صاحبزادہ حمزہ طاہر الحسن، مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا انیس الرحمن بلوچ، مولانا عبد الرشید اور مفتی محمد عمر فاروق نے بھی خطاب کیا۔ مولانا عبد الغفار شاہ حجازی، مولانا محمد احمد مکی، مولانا عزیز الرحمن معاویہ اور مفتی عمران معاویہ بھی شامل تھے۔
مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا یاسر علوی، قاری عبدالرؤف، مولانا مطلوب مہار اور مولانا زبیر کھٹانہ نے بھی خطاب کیا۔ قاری عزیز الرحمن، مولانا شبیر کھٹانہ، قاری عبد الماجد لاہوری اور مولانا فاروق خانپوری بھی مقررین میں شامل تھے۔
مولانا قاسم سانگی، مولانا اشرف ملک، مولانا اعجاز ملک، قاری عبد الوہاب معاویہ اور مولانا محمد بلال ثاقب نے بھی شرکت کی۔ قاری ابراہیم، قاری ریاض اور مولانا امیر معاویہ بھی شامل تھے۔
دیگر شرکاء میں مہر عبد الخالق مرالی، مولانا منیب الرحمن حیدری، قاری محبت علی قاسمی اور قاری ذوالقرنین شامل تھے۔ مولانا طیب قریشی، قاری محمود الحسن، قاری عبد الماجد ملک اور مولانا وقاص نے بھی مشترکہ مؤقف کا اظہار کیا۔
سعودی قیادت اور عوام سے غیر مشروط یکجہتی
علمائے کرام نے خادم الحرمین الشریفین اور سعودی قیادت سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ انہوں نے سعودی مسلح افواج اور عوام کی حمایت کا بھی یقین دلایا۔
مقررین نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے عالمِ اسلام میں اتحاد اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مقررین کے مطابق، یمن کے عوام اور سعودی شہری دونوں امن کے مستحق ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
مشترکہ اعلامیے میں اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا۔ عالمی برادری اور متعلقہ اداروں سے بھی فوری توجہ دینے پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں شہری آبادیوں اور مقدس مقامات کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی۔ علمائے کرام نے شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خطے میں پائیدار امن قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ اعلامیے میں حوثی گروہ اور اس کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
سعودی عرب اور عالمِ اسلام کے امن کے لیے دعائیں
اجتماعات کے اختتام پر خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے سعودی عرب کی سلامتی اور ترقی کے لیے دعا کی۔
حرمین شریفین کے تحفظ اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کی دعا بھی کی گئی۔ حملوں سے متاثرہ افراد کے لیے آسانیوں کی دعا مانگی گئی۔ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعا کی گئی۔
