Table of Contents
اسرائیل کی بیرالسبع ضلعی عدالت نے غزہ میں سرگرم تنظیم مجاہدین بریگیڈز کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک بدو شخص کو ساڑھے 24 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم کی شناخت شہادہ ابو القیعان کے نام سے ہوئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، عدالت نے اسے جنگ کے دوران دشمن کی مدد، دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور اسلحے سے متعلق جرائم میں سزا سنائی۔ اس پر فوجی سازوسامان چوری کرنے کے الزامات بھی ثابت ہوئے۔ عدالت نے قید کے علاوہ معطل سزا اور 25 ہزار شیکل جرمانہ بھی عائد کیا۔
2021 میں تنظیم سے رابطہ قائم کیا
استغاثہ کے مطابق، شہادہ ابو القیعان نے 2021 میں سوشل میڈیا اور ٹیلی گرام کے ذریعے مجاہدین بریگیڈز کے ارکان سے رابطہ کیا۔ اس نے تنظیم کے لیے کام کرنے اور اسرائیل کے خلاف کارروائیوں میں مدد دینے پر آمادگی ظاہر کی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزم اپنے علاقے کے قریب فوجیوں اور ہیلی کاپٹروں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کرتا رہا۔ اس نے مبینہ طور پر اسرائیلی فوجی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، سرکاری کمپنیوں اور تجارتی مراکز کی تصاویر بھی تنظیم کو بھیجیں۔
فوجی رائفل اور گولیاں چوری کرنے کا الزام
استغاثہ کے مطابق، ملزم نے ستمبر 2019 میں ایک اسرائیلی فوجی سے ایم فور رائفل، میگزین اور لیزر سائیٹ چوری کی تھی۔ اس نے یہ سامان اپنے گھر کے قریب چھپا دیا تھا۔
بعدازاں، تنظیم کے ایک کارندے نے اس سے مزید اسلحہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، مئی 2022 میں ملزم نے اپنے ایک کزن کی مدد سے رائفل، ہزاروں گولیاں اور پانچ دستی بم گاڑی میں رکھے۔ دونوں یہ اسلحہ مغربی کنارے منتقل کرنے گئے، جہاں اسے تنظیم کے لیے چھپایا گیا۔
اسرائیلی فوج میں بھرتی ہو کر معلومات جمع کرنے کی کوشش
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزم نے 22 مئی 2022 کو اسرائیلی فوج میں بھرتی اختیار کی۔ اس کا مقصد فوج کے اندر سے حساس معلومات جمع کرنا اور مجاہدین بریگیڈز تک پہنچانا تھا۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ وہ فوجی اڈوں، فوجی اہلکاروں اور عسکری مقامات سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بدو فوجیوں کے نام، فون نمبر اور تصاویر بھی تنظیم کے کارندے کو فراہم کیں۔
شن بیت نے 30 مئی 2022 کو اسے گرفتار کرلیا۔ یوں وہ فوج میں بھرتی ہونے کے تقریباً آٹھ روز بعد حراست میں آگیا۔ اس گرفتاری سے اس کی مبینہ سرگرمیاں رک گئیں۔
اقرارِ جرم اور شہریت منسوخ کرنے کا معاملہ
شہادہ ابو القیعان نے دسمبر 2025 میں معاہدۂ اقرارِ جرم کے تحت الزامات تسلیم کیے تھے۔ اس کے بعد عدالت نے اسے سزا سنائی۔
استغاثہ نے اس کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا معاملہ بھی وزیر داخلہ یاریو لیون کے سامنے اٹھایا ہے۔ حکام اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔
