Table of Contents
تہران: ایران نے امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران اپنے مطالبات منظور کرائے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ تاہم، ایران غیرمعینہ مدت تک جنگ جاری رکھنے یا طویل مذاکرات میں الجھنے کا خواہاں نہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، قالیباف نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ایران کا مقصد پائیدار دفاعی توازن قائم کرنا ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے یہ ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر جنگ ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔
مذاکرات اور دفاعی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہیں گی
قالیباف کے مطابق، صرف مذاکرات یا مسلسل جنگ مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے کافی نہیں۔ ایران کو دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھنی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد میدان میں حاصل ہونے والے فوائد کو سیاسی اور قانونی کامیابیوں میں بدلنا ہے۔ ان کے مطابق، ایران ایسا دفاعی توازن چاہتا ہے جو آئندہ حملوں کی حوصلہ شکنی کرے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ تہران نہ غیرمعینہ مدت تک جنگ چاہتا ہے اور نہ مستقل مذاکرات۔ ان کے مطابق، ایران کا مقصد اپنے مطالبات منوانا اور مستقبل میں حملوں کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
امریکی ڈیڈ لائنز اور معاشی دباؤ پر تنقید
قالیباف نے امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائنز اور معاشی دباؤ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی مقرر کردہ مہلتیں گزر چکی ہیں، لیکن ایرانی نظام بدستور کام کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی دباؤ ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے میں ناکام رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور دفاعی ضروریات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ پر طنزیہ تنقید
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سوشل میڈیا پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے امریکی معاشی پیش گوئیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے بیسنٹ کو فزکس کا نوبیل انعام دینے کا طنزیہ مطالبہ کیا۔
قالیباف کے مطابق، امریکی حکام نے ایران کی معیشت پر دباؤ کے نتائج اور ممکنہ تباہی سے متعلق مختلف پیش گوئیاں کی تھیں۔ ان کے بقول، مقررہ مہلتیں گزرنے کے باوجود ان پیش گوئیوں کے مطابق نتائج سامنے نہیں آئے۔
جنگ کے خاتمے کا انحصار ممکنہ سمجھوتے پر
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مستقبل کے لیے دفاعی ضمانتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ امریکی دباؤ کے سامنے اپنا مؤقف تبدیل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
دوسری جانب، مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تاہم، کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کے مطالبات اور ممکنہ سمجھوتے اہم ہوں گے۔
