Table of Contents
سعودی قیادت میں یمن کی حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد کے مطابق، ان کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور یمنی حکومتی فورسز کی مدد کرنا ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ تازہ کارروائیوں میں حوثیوں کے 136 فوجی اہداف تباہ کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سعودی اتحاد کے اپنے دعوے پر مبنی ہیں۔
حوثیوں کے میزائل نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ترکی المالکی کے مطابق، اتحادی افواج حوثیوں کے جنگجوؤں اور فوجی تنصیبات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یمنی حکومتی فورسز کو مختلف محاذوں پر مسلسل فضائی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے۔
آپریشن ڈان آف یمن کے تحت پیش قدمی
یمن کی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے آپریشن ڈان آف یمن شروع کیا ہے۔ سعودی اتحاد بھی اس کارروائی میں فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔
لڑائی میں باب المندب، تعز اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کو اہمیت حاصل ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
سعودی شہروں کی طرف میزائل حملوں کی اطلاعات
سعودی اتحاد نے 8 اکتوبر کو تین بیلسٹک میزائل روکنے کا اعلان کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق، دو میزائل ریاض کی جانب آ رہے تھے۔ تیسرا میزائل خمیس مشیط کی سمت داغا گیا تھا۔
اتحاد نے دعویٰ کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے تینوں میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی حکام کے مطابق، میزائلوں کے ملبے سے ریاض میں ایک کنڈرگارٹن اور طبی مرکز کو نقصان بھی پہنچا۔
یمن میں کشیدگی اور علاقائی سلامتی
یمن میں تازہ لڑائی سے علاقائی سلامتی اور بحیرۂ احمر میں بحری نقل و حرکت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ باب المندب آبنائے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے۔
تاہم، فوجی کارروائیوں کے نتائج اور نقصان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ سعودی اتحاد کے بیان کردہ اعداد و شمار کو فی الحال اس کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
