Table of Contents
یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
حوثیوں نے صوبہ تعز میں سعودی عرب کے زیر استعمال ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں 82 حوثی فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثیوں کا بیرقدار آقنچی گرانے کا دعویٰ
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا۔
ان کے مطابق ڈرون تعز میں ایک فوجی مشن پر مامور تھا۔
ترجمان نے کہا کہ حوثی فورسز نے مناسب ہتھیاروں سے ڈرون کو نشانہ بنایا۔
اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
باب المندب کے قریب میزائل حملوں کا دعویٰ
حوثی ترجمان نے سعودی حمایت یافتہ فورسز پر بھی حملوں کا دعویٰ کیا۔
ان کے مطابق باب المندب کے قریب فوجی اجتماعات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی میزائل حملے کا دعویٰ کیا۔
یہ ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے کا تیسرا دعویٰ ہے۔
سعودی ایئرپورٹ حملوں میں 3 افراد جاں بحق
سعودی حکام کے مطابق ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد جاں بحق ہوئے۔
مزید 36 افراد زخمی ہوئے۔
حالیہ رپورٹس میں زخمیوں میں ایک پاکستانی شہری کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سعودی اتحاد کی 82 اہداف کے خلاف کارروائی
سعودی قیادت میں یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے جوابی کارروائی کی۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کارروائی کی تفصیلات بتائیں۔
ان کے مطابق اتحادی فورسز نے یمن کے چار صوبوں میں 82 فوجی اہداف تباہ کیے۔
کارروائی صعدہ، الحدیدہ، الجوف اور مارب میں کی گئی
بیلسٹک میزائل تنصیبات بھی نشانہ
اتحاد کے مطابق کارروائی میں صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں 11 بیلسٹک میزائل ذخیرہ گاہیں تباہ کی گئیں۔
کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز بھی کارروائی کا نشانہ بنے۔
مواصلاتی نظام اور میزائل ڈپو بھی تباہ کیے گئے۔
اس کے علاوہ حوثی فورسز کے اجتماع کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ترکی المالکی کا سخت ردعمل
ترکی المالکی نے سعودی شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حملے بغیر سزا کے نہیں رہیں گے۔
اتحادی ترجمان کے مطابق کارروائی ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد کی گئی۔
یہ کارروائیاں یمن میں جاری وسیع فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہیں۔
