Table of Contents
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کے بیان کو مذاق قرار دے دیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے مشیروں سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔ عہدیدار نے کہا کہ صدر نے یہ بات نیویارک میں ایک تقریر کے دوران مذاقاً کہی۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو نیویارک میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا بھی دفاع کیا تھا۔ ان کے بیان کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔
وائٹ ہاؤس کی وضاحت
وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کے معاملے پر کوئی عملی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ اس موضوع پر کوئی ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے تقریر میں یہ بات مذاق کے طور پر کہی تھی۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔
حالیہ کشیدگی نے اس آبی گزرگاہ کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ ایران نے بھی آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ برقرار رکھا ہے۔
ایران کا ردعمل
ایرانی حکام نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی کنٹرول میں ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی دھمکیوں سے وہ خوفزدہ نہیں ہوگا۔
