واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے خاندان کے افراد اور بعض قریبی اتحادی سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ جوہری توانائی معاہدے سے مالی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی کے تعاون کے معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کے بیٹوں نے ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو جوہری ایندھن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کی میڈیا کمپنی بھی ایک جوہری توانائی کے اسٹارٹ اپ کے ساتھ انضمام (Merger) کی کوشش کر رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کابینہ کے بعض اعلیٰ عہدیداروں اور ان کے بڑے سیاسی عطیہ دہندگان کے بھی جوہری توانائی سے وابستہ کمپنیوں کے ساتھ تعلقات ہیں، جنہیں سعودی عرب کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے سے کاروباری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی پالیسی سازی قومی مفادات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، نہ کہ کسی ذاتی یا مالی مفاد کے تحت۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق ایسے دعوے "غیر ذمہ دارانہ” ہیں اور ان سے عوام کا میڈیا پر اعتماد مزید متاثر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدہ تاحال غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جب تک سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے پیش رفت نہیں کرتا، اس وقت تک اس معاہدے کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں ہوگا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی اور سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان علاقائی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت جاری ہے۔

