لاہور: پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اگر 57 اسلامی ممالک سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اسلامی دنیا معاشی طور پر مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال کے باعث سیاحت، بالخصوص مذہبی سیاحت، کے فروغ کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
وہ لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ انٹرنیشنل اسلامک ٹورازم نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ نمائش میں سعودی عرب کی 42 معروف ٹورازم کمپنیاں شریک ہیں، جو پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں سیاحت کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی سیاحت کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں ہر سال سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں زائرین مختلف مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی سیاحت کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں حج و عمرہ کے انتظامات اور سہولیات میں نمایاں بہتری لائی ہے، جو قابل تحسین اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایمان، عقیدے اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر، پاکستان، ترکیہ، خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ عوامی روابط بھی فروغ پائیں گے۔
انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش مسائل کا حل باہمی اتفاق اور تعاون میں ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے اور تمام فریقوں کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
تقریب کے دوران نمائش کے آرگنائزر عبداللہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی 42 کمپنیاں نمائش میں شریک ہیں، جن کی موجودگی سے سیاحت، سفر اور متعلقہ خدمات کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
بعد ازاں حافظ طاہر محمود اشرفی نے نمائش کا باضابطہ افتتاح کیا اور مختلف سٹالز کا دورہ بھی کیا۔

