سعودی عرب کی میزبانی میں عرب بین الپارلیمانی یونین کی 39ویں کانفرنس 10 جون سے وڈیو لنک کے ذریعے شروع ہو رہی ہے، جو 11 جون تک جاری رہے گی۔ کانفرنس میں عرب ممالک کی پارلیمانوں اور قانون ساز اداروں کے سربراہان سمیت متعدد علاقائی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
شیخ عبداللہ بن محمد آل الشیخ نے بتایا کہ کانفرنس کا انعقاد سعودی شوریٰ کونسل اور عرب بین الپارلیمانی یونین کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اجلاس عرب دنیا کے پارلیمانی رہنماؤں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں خطے کو درپیش اہم سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی میزبانی عرب ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون، علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عرب ممالک کے درمیان پارلیمانی ہم آہنگی اور مشترکہ موقف کی تشکیل پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
شیخ عبداللہ بن محمد آل الشیخ نے زور دیا کہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے، ترقیاتی اہداف کے حصول اور عرب دنیا میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔
عرب بین الپارلیمانی یونین 1974 میں اکتوبر جنگ 1973 کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق میں قائم کی گئی تھی۔ یہ علاقائی ادارہ عرب پارلیمانوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے، عرب یکجہتی اور قومی سلامتی کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ مکالمے، نمائندہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔
یاد رہے کہ عرب بین الپارلیمانی یونین کی 38ویں کانفرنس کی میزبانی گزشتہ سال الجزائر نے کی تھی، جہاں عرب دنیا کو درپیش سیاسی اور اقتصادی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا تھا۔
