سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات “نیلام” ہوئے تھے، اور جب سیاسی نشستیں 40 کروڑ روپے میں فروخت ہوں تو ایسے نظام میں شفاف انتخابات کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت اس مٹی سے وفا اور محبت رکھتے ہیں، لیکن موجودہ حکمرانی کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درست سمت میں چلانے کے لیے اصل اختیار عوام کو منتقل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پہلے ہی آئین کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئین اور حلف کی پاسداری کی جائے تو پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن علاقوں سے معدنی وسائل نکلتے ہیں، وہاں کے عوام کا اس پر پہلا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مطالبے کو بار بار دہراتے رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر پابندیاں عائد ہیں اور ان کی بہنوں کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
خطے کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان اور افغانستان پر بھی پڑیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ افغانستان، پاکستان اور ایران کو باہمی اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام پیدا ہو سکے۔

