Table of Contents
ریاض: فرانس نے سعودی عرب کے شہر ینبع میں اہم توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق اس اقدام میں فوجی اہلکار، ریڈار اور دفاعی نظام شامل ہوں گے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق تعیناتی کا مقصد سعودی توانائی تنصیبات کا دفاع ہے۔ یہ اقدام کسی نئے فوجی تنازع میں براہ راست شمولیت نہیں ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
سعودی عرب میں فرانسیسی سفیر پیٹرک میزونیو نے کہا ہے کہ فوجی تعیناتی فرانس کی یکجہتی کا واضح اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے مضبوط تزویراتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب فرانس پر بھروسہ کرسکتا ہے۔
ینبع کی توانائی تنصیبات اہم قرار
فرانسیسی حکام نے ینبع کی توانائی تنصیبات کو اہم قرار دیا ہے۔ یہ علاقہ سعودی تیل کی برآمدات کے لیے اہم راستوں میں شامل ہے۔
ینبع بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔ یہاں سے توانائی کی ترسیل عالمی منڈیوں تک ہوتی ہے۔ اس لیے تنصیبات کا تحفظ علاقائی اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
فوجی تعیناتی دفاعی نوعیت کی ہوگی
فرانسیسی صدر کے اعلان کے مطابق سعودی عرب میں بھیجے جانے والے فوجی وسائل کا مقصد دفاع ہوگا۔ فرانس نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام کسی جارحانہ کارروائی کی تیاری نہیں ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی ینبع مشن سے متعلق سوالات کے جواب میں اس کے دفاعی پہلو پر بات کی ہے۔ فرانس کا مؤقف ہے کہ مشن کا بنیادی مقصد اہم تنصیبات کی حفاظت ہے۔
خطے میں توانائی تنصیبات کو سکیورٹی خطرات
ینبع کی توانائی تنصیبات کو حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ سعودی حکام نے یمن سے آنے والے میزائل حملوں کو بھی روکنے کا اعلان کیا ہے۔
فرانس کی جانب سے دفاعی معاونت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرہ احمر اور خلیج کے راستوں میں سکیورٹی صورتحال اہم بنی ہوئی ہے۔
فرانس اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
فرانس اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون کئی برسوں سے جاری ہے۔ دونوں ممالک نے حالیہ عرصے میں دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
فرانسیسی فوجی تعیناتی دونوں ممالک کے درمیان موجود دفاعی تعاون کی ایک نئی مثال ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فرانس نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی سکیورٹی شراکت داری کا اظہار کیا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں پر توجہ
فرانسیسی حکام کے مطابق ینبع کی حفاظت صرف سعودی عرب کے لیے نہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے بھی اہم ہے۔
فرانسیسی صدر نے توانائی کی عالمی قیمتوں پر علاقائی کشیدگی کے اثرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ پیرس کا کہنا ہے کہ اہم توانائی تنصیبات کا تحفظ عالمی سپلائی کے استحکام میں مدد دے سکتا ہے۔
