Table of Contents
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ خلیج کی صورتحال بھی گفتگو کا حصہ رہی۔
کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سیاسی اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق بحران کے حل میں تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
روس اور سعودی عرب کے تعلقات
صدر پوتن نے سعودی ولی عہد کو سعودی قومی دن کے موقع پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ سوویت یونین ایک صدی قبل سعودی عرب کو تسلیم کرنے والا پہلا غیر ملکی ملک تھا۔
دونوں رہنماؤں نے سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور انسانی شعبوں میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے مختلف سطحوں پر رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
مشرق وسطیٰ میں سفارتی حل پر زور
پوتن اور محمد بن سلمان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
گفتگو میں خلیج کے موجودہ بحران پر بھی بات ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے سیاسی اور سفارتی راستے کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے حل میں تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
یمن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
دونوں رہنماؤں نے یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے فوری طور پر لڑائی روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سرپرستی میں یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں محفوظ آمدورفت
گفتگو میں خطے کی اہم آبی گزرگاہوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
دونوں رہنماؤں نے بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کی اہمیت اجاگر کی۔
اس حوالے سے خاص طور پر آبنائے ہرمز اور باب المندب کا ذکر کیا گیا۔ دونوں آبی گزرگاہیں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ہیں۔
باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
روسی صدر اور سعودی ولی عہد نے مختلف سطحوں پر رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعاون بھی گفتگو کا حصہ رہا۔
