Table of Contents
لاہور: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دونوں کو 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے دونوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے۔
احکامات پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت جاری ہوئے۔
دونوں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ہوئی ہے۔
نظر بندی کی وجوہات
ڈپٹی کمشنر کے احکامات میں امن و امان کا حوالہ دیا گیا ہے۔
احکامات کے مطابق دونوں خواتین سے عوامی امن کو خطرہ ہے۔
حکام نے ماضی کے احتجاج اور موجودہ سیاسی سرگرمیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔
احکامات میں سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں درخواست
عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی گئی ہے۔
درخواست میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔
علیمہ خان بھی پہلے حراست میں
عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی گرفتاری سے ایک روز قبل علیمہ خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
علیمہ خان کو لاہور میں 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا۔
یہ کارروائی بھی پی ٹی آئی کے آئندہ احتجاج سے پہلے ہوئی۔
لاہور انتظامیہ کے مطابق علیمہ خان کی موجودگی سے عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
پی ٹی آئی نے ان کارروائیوں پر اعتراض کیا ہے۔
علیمہ خان کے بیٹوں سے متعلق دعویٰ
علیمہ خان کے بیٹوں شیر شاہ اور شاہ ریز کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
وکیل رانا مدثر کے مطابق دونوں کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
ان کے مطابق عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو رات گئے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔
یہ معلومات وکیل کے بیان پر مبنی ہیں۔
پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو احتجاج
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پارٹی اس احتجاج کے ذریعے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی اسی احتجاج سے قبل سامنے آئی ہے۔
