Table of Contents
لاہور: چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو دھمکیاں دینے والوں کو خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کو دھمکیاں دینے والے جان لیں ہمیں انکا اور ان کے سرپرستوں کا علاج کرنا اچھی طرح آتاہے
طاہر اشرفی نے پاکستانی عوام اور سعودی عرب کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے ایسی سرگرمیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
سعودی سفیر کی دعوت کا دعویٰ مسترد
حافظ طاہر محمود اشرفی نے سعودی سفیر کی جانب سے کسی کو ناشتے یا کھانے کی دعوت دینے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے سعودی سفیر نے ابھی چارج سنبھالا ہی نہیں۔
ان کے مطابق ایسی صورت میں کسی کو دعوت دینے کی بات درست نہیں ہو سکتی۔
اشرفی نے کہا کہ بعض عناصر ایسی باتیں پھیلا کر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔
حرمین شریفین کی سلامتی
حوثی مفتی کے مبینہ فتوے سے متعلق سوال پر طاہر اشرفی نے سخت ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ حوثی مفتی کیا اس کے آباؤ اجداد میں آ جائیں اگر وہ ارضِ حرمین الشریفین کی سلامتی اور استحکام کی طرف دیکھیں گے تو انشاءاللہ جواب ویسا ہی ملے گا جیسا اس وقت مل رہا ہے۔
ارضِ حرمین شریفین کی سلامتی اور استحکام پوری امت مسلمہ کے لیے اہم ہے۔
ان کے مطابق مسلم دنیا حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے متحد ہے۔
اشرفی نے کہا کہ مسلم ممالک کی قیادت جو فیصلہ کرے گی، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
پاکستان اور ترکیہ کو دھمکیوں پر ردعمل
طاہر اشرفی نے پاکستان اور ترکیہ کو حوثیوں کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دھمکی دینے والوں اور ان کے مبینہ سرپرستوں سے نمٹنا آتا ہے۔
فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش
طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق بعض عناصر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے ریاستی اداروں سے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اشرفی نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے وقت پاکستان کے اہل سنت اور اہل تشیع علماء نے مذمت کی۔
ان کے مطابق اس سے پاکستان میں مذہبی اتحاد کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
سعودی سفیروں کے کردار کا حوالہ
طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں تعینات سعودی سفیروں نے ہمیشہ اتحاد اور وحدت کی بات کی ہے۔
انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بیانات کا بھی حوالہ دیا۔
اشرفی کے مطابق سعودی قیادت فرقہ وارانہ تقسیم کے تصور کی حمایت نہیں کرتی۔
انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز قرار دیا۔
ان کے مطابق مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمان وہاں عبادت کرتے ہیں۔
وزارت داخلہ اور خارجہ سے کارروائی کا مطالبہ
حافظ طاہر محمود اشرفی نے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے ایسی سرگرمیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان اور برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں روکنا ضروری ہے۔
پاکستانی حکام نے حالیہ بیانات میں بھی سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
