Table of Contents
عدن/دبئی: سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن عارضی طور پر بند کردی ہے۔
یہ اقدام پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا۔
حملوں میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
سعودی حکام کے مطابق حملے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ہوئے۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ڈرون عراق سے آئے تھے۔
پائپ لائن کی اہمیت
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے۔
یہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کو بحیرہ احمر سے جوڑتی ہے۔
پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے بچ کر تیل برآمد کرنے کا راستہ دیتی ہے۔
حالیہ عرصے میں اس راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
Reuters کے مطابق پائپ لائن حالیہ مہینوں میں روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کر رہی تھی۔
یہ مقدار عالمی تیل سپلائی کے تقریباً 4 سے 5 فیصد کے برابر ہے۔
سعودی وزارت توانائی نے کہا کہ ہنگامی اور تکنیکی ٹیموں نے فوری کارروائی کی۔
ٹیموں نے پائپ لائن کی حفاظت اور نقصان کا جائزہ لیا۔
عراق نے تحقیقات شروع کردیں
عراقی حکومت نے سعودی عرب میں حملے کی مذمت کی ہے۔
عراق نے حملے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
Reuters کے مطابق عراق نے ایک فوجی کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔
حکام کے مطابق ڈرون حملوں کا تعلق عراقی علاقے سے سامنے آیا۔
سعودی عرب نے فوری جوابی کارروائی نہیں کی۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر کیا گیا۔
ریاض نے کہا کہ وہ عراقی حکومت کو کارروائی کا موقع دے رہا ہے۔
تاہم سعودی عرب نے اپنے مفادات کے تحفظ کا حق برقرار رکھا ہے۔
حوثیوں کی بحیرہ احمر میں پیش قدمی
پائپ لائن حملے کے ساتھ یمن میں بھی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔
Reuters کے مطابق حوثیوں نے باب المندب کے قریب جزیرہ میون پر قبضہ کرلیا ہے۔
جزیرہ میون بحیرہ احمر کے جنوبی داخلی راستے کے قریب واقع ہے۔
یہ مقام عالمی بحری تجارت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
حوثیوں کی پیش قدمی سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی سلامتی پر خدشات بڑھے ہیں۔
اس پیش رفت نے سعودی تیل برآمدات پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ پر اثرات
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں رکاوٹوں نے توانائی کی عالمی تجارت کو متاثر کیا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔
سعودی عرب نے ماضی میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو متبادل برآمدی راستے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اس راستے سے تیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچایا جاتا ہے۔
تازہ بندش سے عالمی توانائی منڈی میں مزید غیر یقینی پیدا ہوئی ہے۔
صورتحال میں مزید کشیدگی ہوئی تو تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
