Table of Contents
کراچی: پاکستان کی معروف بیوٹیشن، کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن مسرت مصباح نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کی مشکلات بیان کردی ہیں۔
مسرت مصباح نے انکشاف کیا کہ بیوٹیشن کا پیشہ اختیار کرنے پر انہیں رشتے داروں اور پڑوسیوں کے تحقیر آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ بیوٹیشن اور سماجی کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنانے کے ساتھ اداکاری بھی کرچکی ہیں۔ انہوں نے امر بیل، کیٹ واک اور اساوری جیسے ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔
رشتے داروں نے بیوٹیشن بننے پر اعتراض کیا
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مسرت مصباح نے اپنے تجربات شیئر کیے۔
انہوں نے بتایا کہ معاشرے سے زیادہ ان کے رشتے داروں کو ان کے بیوٹیشن بننے پر اعتراض تھا۔
مسرت مصباح کے مطابق خاندان کے ایک فرد نے ان کے والد سے کہا:
’’مصباح بھائی، آپ نے اپنی بیٹی کو حجام بنا دیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس دور میں بیوٹیشن کا پیشہ آج کی طرح قابلِ قبول نہیں تھا۔
پڑوسن کا رویہ بھی تبدیل ہوگیا
مسرت مصباح نے اپنی ایک پڑوسن کا واقعہ بھی سنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی پڑوسن وکیل تھیں۔ وہ انہیں سلام کیا کرتی تھیں، لیکن پڑوسن اکثر برا سا منہ بنا کر وہاں سے چلی جاتی تھیں۔
ایک دن وہی خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ مسرت مصباح کے پاس آئیں۔
مسرت مصباح کو لگا کہ شاید وہ انہیں ڈانٹنے آئی ہیں۔
تاہم پڑوسن نے ان سے ان کے سرٹیفکیٹس کے بارے میں سوال کیا۔
بعد میں انہوں نے اپنی بیٹی کو مسرت مصباح سے بیوٹیشن کا کام سیکھنے کے لیے بھیج دیا۔
شاگرد نے بیرون ملک جا کر نئی زندگی شروع کی
مسرت مصباح نے بتایا کہ وہ لڑکی ان کے ساتھ رہی۔
اس نے بیوٹیشن کا کام سیکھا۔
بعد میں اس کی شادی ہوگئی اور وہ بیرون ملک منتقل ہوگئی۔
مسرت مصباح کے مطابق یہ واقعہ ان کے لیے بہت اہم تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس دن انہیں محسوس ہوا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کی ایک بڑی رکاوٹ عبور کرلی ہے۔
معاشرتی سوچ بدلنے کی ضرورت پر زور
مسرت مصباح نے بتایا کہ ان کی پڑوسن پہلے کہتی تھیں کہ ان جیسی خواتین علاقے میں آکر رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔
مسرت مصباح کے مطابق اُس دور میں معاشرہ چند پیشوں کو ہی عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
ان کے مطابق تدریس اور طب کو خاص طور پر باعزت پیشہ سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے اپنے تجربے کے ذریعے یہ واضح کیا کہ کسی پیشے کی عزت اس کے نام سے نہیں بلکہ انسان کی محنت اور کردار سے بنتی ہے۔
