Table of Contents
واشنگٹن: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی نافذ العمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا اپریل 2025 کا یکطرفہ اعلان معاہدے کی قانونی حیثیت نہیں بدل سکتا۔
ان کے مطابق بھارتی اقدام معاہدے کے تحت موجود حقوق اور ذمہ داریوں کو بھی ختم نہیں کرسکتا۔
پاکستانی سفیر نے یہ مؤقف نیوز ویک میں شائع اپنے مضمون میں پیش کیا۔
سندھ طاس معاہدہ 60 سال سے زیادہ عرصے سے نافذ ہے
رضوان سعید شیخ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم ہے۔
انہوں نے اسے دریائی نظام کے انتظام کا اصولی قانونی فریم ورک قرار دیا۔
ان کے مطابق معاہدے کی طاقت سیاسی خیر سگالی پر منحصر نہیں۔
معاہدے نے تنازعات کے حل کے لیے واضح اصول اور طریقہ کار طے کیے ہیں۔
اس نظام نے دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات میں استحکام پیدا کیا۔
بھارت کے یکطرفہ اعلان پر اعتراض
پاکستانی سفیر نے بھارتی مؤقف کو مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اپریل 2025 سے معاہدے کو ’’التوا میں رکھنے‘‘ کا مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام کی معاہدے میں کوئی گنجائش نہیں۔
بین الاقوامی قانون بھی ایسے یکطرفہ اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت اس مؤقف کے ذریعے اپنے یکطرفہ اقدامات کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے بھارتی اقدامات کو سندھ طاس معاہدے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
سندھ طاس معاہدہ کیسے طے پایا؟
پاکستانی سفیر نے معاہدے کی تاریخی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو طے پایا تھا۔
عالمی بینک نے اس معاہدے کے لیے طویل مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ یہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے کوئی رعایت نہیں تھی۔
انہوں نے اسے ایک باقاعدہ بین الاقوامی قانونی تصفیہ قرار دیا۔
معاہدے میں دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح کی گئیں۔
مشرقی اور مغربی دریاؤں کی تقسیم
پاکستانی سفیر کے مطابق معاہدے نے دریاؤں کے استعمال کا واضح نظام بنایا۔
بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کے استعمال کا حق ملا۔
یہ تینوں مشرقی دریا ہیں۔
دوسری جانب سندھ، جہلم اور چناب مغربی دریا قرار پائے۔
ان دریاؤں کے پانی سے متعلق پاکستان کے حقوق معاہدے نے محفوظ کیے۔
پاکستان نے بھی معاہدے کے تحت اپنی آبی حکمت عملی تبدیل کی۔
اس مقصد کے لیے پاکستان نے آبپاشی کے نظام میں بڑے پیمانے پر متبادل انتظامات کیے۔
بھارت کے پن بجلی منصوبوں پر پاکستانی مؤقف
رضوان سعید شیخ نے بھارت کے ایک اور مؤقف کو بھی مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی پن بجلی کی ترقی کی مخالفت نہیں کی۔
ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم ان منصوبوں کو معاہدے میں طے شدہ شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔
ان شرائط میں منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق اصول شامل ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ ان اصولوں کا مقصد دونوں ممالک کے حقوق کا تحفظ ہے۔
تنازعات کے حل کا طریقہ کار
پاکستانی سفیر نے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل IX کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے مقررہ طریقہ کار معاہدے کا بنیادی حصہ ہے۔
پاکستان کا اس طریقہ کار سے رجوع کرنا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔
بلکہ یہ معاہدے میں دیے گئے قانونی حق کا استعمال ہے۔
انہوں نے جھیلوں، سپل ویز اور آؤٹ لیٹس جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق ایسے معاملات آبی منصوبوں کی حفاظت سے براہ راست جڑے ہیں۔
ثالثی عدالت کے فیصلوں کا حوالہ
رضوان سعید شیخ نے ثالثی عدالت کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔
ان کے مطابق عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تسلسل کی توثیق کی ہے۔
انہوں نے مئی 2026 کے ضمنی ایوارڈ کا بھی ذکر کیا۔
پاکستانی سفیر کے مطابق مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کو معاہدے کی حدود میں رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی یا سکیورٹی تنازعات معاہدے کی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرسکتے۔
دہشت گردی کے الزامات معاہدہ ختم نہیں کرسکتے
پاکستانی سفیر نے بھارت کے دہشت گردی سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا حق نہیں دیتے۔
ان کے مطابق کوئی فریق اپنی مرضی سے معاہدے کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا خاتمے کی اجازت نہیں۔
آرٹیکل XII کیا کہتا ہے؟
رضوان سعید شیخ نے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل XII کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق معاہدہ اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک دونوں حکومتیں اسے باقاعدہ معاہدے کے ذریعے ختم نہ کریں۔
اس لیے پاکستان بھارت کے یکطرفہ اعلان کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت کو اپنے یکطرفہ اقدامات واپس لینے چاہئیں۔
انہوں نے بھارت پر معاہدے کی مکمل پاسداری کا بھی زور دیا۔
پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قانونی حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
اس مقصد کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
پاکستانی سفیر نے سندھ طاس کو ملکی بقا اور معیشت سے جوڑا۔
ان کے مطابق پاکستان کی زراعت، خوراک اور روزگار کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف سیاسی مفاد کا نہیں۔
یہ پاکستان کی آبی سلامتی اور عوام کی فلاح کا مسئلہ ہے۔
رضوان سعید شیخ کے مطابق سندھ طاس معاہدے کا تحفظ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔
