Table of Contents
ایران نے قطر میں مبینہ طور پر قید تین ایرانی پائلٹوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پائلٹوں کو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران قطری فورسز نے گرفتار کیا تھا۔
ایران نے معاملہ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے سامنے بھی اٹھا دیا ہے۔
ایرانی پائلٹوں کی گرفتاری کا دعویٰ
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جنرل محمد باقر زادہ نے تین پائلٹوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کے مطابق قطری فورسز نے جنگ کے دوران ایک Su-24 لڑاکا طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے بعد پائلٹوں کو زندہ گرفتار کیا۔
ایرانی جنرل نے دعویٰ کیا کہ تین پائلٹ تقریباً چھ ماہ سے قطری حراست میں ہیں۔
ان میں جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہرویشان شامل ہیں۔
ریڈ کراس کو خط
جنرل محمد باقر زادہ نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کو خط بھیجا ہے۔
خط میں پائلٹوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایرانی جنرل کے مطابق گرفتار پائلٹوں کو اپنے اہل خانہ سے ملاقات یا رابطے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
ایران نے ریڈ کراس سے معاملے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کا ایک پائلٹ پہلے بھی ہلاک ہوا
گزشتہ ماہ ایرانی فوج نے ایک اور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
ایرانی حکام کے مطابق ماجد کاظمی کی لاش برآمد کی گئی تھی۔
ایران کے مطابق وہ مارچ کے اوائل میں قطر کے العدید ایئر بیس پر حملے کے دوران ہلاک ہوا تھا۔
دیگر پائلٹ بھی لاپتہ ہونے کا دعویٰ
ایران نے اس سے قبل اپنے کئی پائلٹوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
تاہم ان کی گرفتاری کی مبینہ تفصیلات اس وقت منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔
اب ایرانی حکام نے تین پائلٹوں کی قطری حراست کا دعویٰ کیا ہے۔
