Table of Contents
پیرس: فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی روک دی ہے۔
عدالت نے جمعہ کو متنازع قانون کی بعض شقوں پر اعتراض کیا۔ عدالت کے مطابق قانون اظہار رائے کی آزادی اور رازداری کے حقوق کو متاثر کرتا ہے۔
یہ فیصلہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ میکرون نے حکومت کو قانون میں تبدیلی کی ہدایت کی ہے۔
بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا منصوبہ
فرانس کی پارلیمنٹ نے جولائی میں اس قانون کی منظوری دی تھی۔ قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے سے روکا جانا تھا۔
یہ پابندی یکم ستمبر سے نافذ ہونا تھی۔ پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی چار ماہ میں بند کیے جانے تھے۔
قانون میں عمر کی تصدیق کا نظام بھی شامل تھا۔ اس نظام کی منظوری فرانسیسی پرائیویسی ریگولیٹر سے لینا ضروری تھی۔
عدالت نے اظہار رائے کی آزادی کا حوالہ دیا
فرانس کی آئینی کونسل نے قانون کی اہم شقوں کا جائزہ لیا۔ کونسل نے عمر کی تصدیق سے متعلق شرائط کو ناکافی قرار دیا۔
عدالت کے مطابق قانون میں عمر کی تصدیق کے واضح ضابطے موجود نہیں تھے۔ اس کے باعث شہریوں کی آزادی اور رازداری متاثر ہو سکتی تھی۔
کونسل نے کہا کہ قانون اظہار اور رابطے کی آزادی پر غیر متناسب اثر ڈالتا ہے۔ اس نے نجی زندگی کے تحفظ کے لیے مزید قانونی ضمانتوں کی ضرورت بھی ظاہر کی۔
آسٹریلیا کے بعد فرانس کا اقدام
فرانس نے یہ قانون آسٹریلیا کے اقدام کے بعد منظور کیا تھا۔ آسٹریلیا نے گزشتہ دسمبر میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔
اس پابندی میں فیس بک، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ آسٹریلیا میں اب قانون کو مزید سخت بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دیگر ممالک بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ چین، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایسے ممالک میں شامل ہیں۔
یورپی یونین بھی بچوں کے تحفظ پر غور کر رہی ہے
یورپی یونین نے بھی بچوں کے آن لائن تحفظ کو اہم قرار دیا ہے۔ یورپی حکام سوشل میڈیا کے نقصان دہ اثرات سے بچوں کو بچانے کے اقدامات چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا کمپنیاں عام طور پر ایسی پابندیوں کی مخالفت کرتی ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے پہلے ہی مختلف اقدامات موجود ہیں۔
ان اقدامات میں عمر کی پابندیاں اور دیگر حفاظتی نظام شامل ہیں۔ تاہم بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں حکومتی قوانین پر عمل کرنے کا بھی کہتی ہیں۔
میکرون قانون میں تبدیلی چاہتے ہیں
صدارتی محل ایلیسی نے کہا ہے کہ میکرون اصلاحات کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سباستین لیکورنو کو قانون میں تبدیلی کی ہدایت کی ہے۔
نئی قانون سازی میں آئینی کونسل کے اعتراضات کو شامل کیا جائے گا۔ میکرون چاہتے ہیں کہ اصلاحات 2027 کے موسم بہار سے پہلے نافذ ہوں۔
فرانس میں 2027 کے موسم بہار میں صدارتی انتخابات بھی ہوں گے۔ میکرون آئینی پابندی کے باعث تیسری مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔
