Table of Contents
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے نئی کثیر ملکی ڈرون ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق نئی یونٹ کا نام ٹاسک فورس فالکن اسٹرائیک رکھا گیا ہے۔ یہ فورس امریکا اور خطے کے شراکت دار ممالک کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگی۔
سمندر میں مختلف ڈرونز کا استعمال
سینٹ کام نے بتایا کہ ٹاسک فورس مختلف حملہ آور ڈرونز استعمال کرے گی۔ یہ ڈرونز سمندر کے اوپر بھی آپریٹ کر سکیں گے۔
یونٹ سطح آب پر بھی ڈرونز تعینات کرے گی۔ اس کے علاوہ زیر آب ڈرونز بھی اس کے آپریشنز کا حصہ ہوں گے۔
ان ڈرونز کو امریکی اور شراکت دار ممالک کے فوجی اہلکار چلائیں گے۔ نئی ٹاسک فورس کا مقصد مشترکہ ڈرون صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
فالکن اسٹرائیک سے پہلے اسکارپین اسٹرائیک
سینٹ کام کا یہ اعلان ایک اور ڈرون یونٹ کے قیام کے تقریباً نو ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس سے قبل ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک قائم کی تھی۔ یہ مشرق وسطیٰ میں یکطرفہ حملہ آور ڈرونز کے لیے پہلا خصوصی امریکی اسکواڈرن تھا۔
نئی ٹاسک فورس اسی تجربے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر کا مؤقف
سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے نئی ٹاسک فورس کے قیام پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں میں جدت کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق فالکن اسٹرائیک، اسکارپین اسٹرائیک کی کامیابی کو آگے بڑھائے گی۔
ایڈمرل کوپر نے مشترکہ صلاحیتوں کو مربوط کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نئے امکانات کو تیزی سے عملی شکل دینے میں مدد ملے گی۔
امریکا اور اتحادیوں کا مشترکہ تعاون
ٹاسک فورس فالکن اسٹرائیک امریکا اور اس کے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کی نئی مثال ہے۔
اس فورس میں مختلف ممالک کے اہلکار شامل ہوں گے۔ یہ اہلکار ڈرونز کے آپریشنز میں مشترکہ طور پر حصہ لیں گے۔
نئی ٹاسک فورس کے قیام سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ڈرون پروگرام کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔
