Table of Contents
اسلام آباد/نیویارک: روس نے یمن کی بحری اور زمینی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس نے یمن میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی پر عائد پابندیاں اٹھانے پر زور دیا ہے۔
روسی مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آیا۔ اقوام متحدہ میں روس کی نمائندہ یولیا ژدانوا نے یمن کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ یمن میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اشیائے ضروریہ کی بلا رکاوٹ فراہمی ضروری ہے۔ ان کے مطابق خوراک اور ادویات کی فراہمی میں رکاوٹیں مزید انسانی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
روس کا امریکا اور اسرائیل پر الزام
روسی سفارتکار نے یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکا اور اسرائیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یولیا ژدانوا کے مطابق حوثیوں کو امریکا اور اسرائیل سے شروع ہونے والے علاقائی تنازع میں گھسیٹا گیا ہے۔ انہوں نے یمن کے مسئلے کو مزید فوجی کشیدگی کے بجائے سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
یمن میں امن مذاکرات بحال کرنے پر زور
روس نے یمن میں امن مذاکرات فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ روسی نمائندے نے کہا کہ یمن کے بحران کا مستقل حل صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے تمام اہم یمنی سیاسی قوتوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق حوثیوں سمیت تمام فریقوں کے جائز مفادات کو سیاسی عمل میں مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
روس نے اس مؤقف کے ذریعے یمن کے بحران کے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
یمن کی صورتحال بدستور حساس
یمن میں جاری کشیدگی نے علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔ بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں کی صورتحال عالمی تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
روس نے ایسے حالات میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ اس نے یمن میں انسانی امداد اور ضروری اشیا کی رسائی یقینی بنانے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔
