Table of Contents
جدہ: سعودی زیرِ قیادت کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد نے اپنا کمانڈ ڈھانچہ فعال کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اتحاد نے اس حوالے سے اہم انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
اتحاد کا پہلا ڈپٹی کمانڈر پاکستان سے مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو گزشتہ ہفتے اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔
اتحاد کے کمانڈ ڈھانچے کی تیاری مکمل
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اتحاد نے اپنا ہیڈکوارٹر بھی نامزد کر دیا ہے۔
اس کے سرکاری لوگو کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔
اتحاد نے کام شروع کرنے کے لیے ضروری تنظیمی اور منصوبہ بندی کا فریم ورک بھی مکمل کرلیا ہے۔
رکن ممالک کے افسران اور اہلکاروں کو اتحاد کے مختلف شعبوں میں شامل کرنے کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔
ان میں کمانڈ، بحری اور انٹیلی جنس آپریشنز شامل ہیں۔
39 ممالک کے نمائندوں کی شرکت
یہ پیش رفت جدہ میں اتحاد کے تیسرے پلاننگ اجلاس کے دوران سامنے آئی۔
اجلاس مغربی فلیٹ کمانڈ میں منعقد ہوا۔
اس میں 39 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکا نے بحری سلامتی سے متعلق مشترکہ ضروریات اور تعاون کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
پاکستان کو اہم ذمہ داری
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اتحاد کا پہلا ڈپٹی کمانڈر پاکستان سے ہوگا۔
یہ فیصلہ پاکستان کے بحری اور دفاعی تعاون میں اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ نئے اقدامات کا مقصد اتحاد کی عملی صلاحیتوں کو تیز کرنا ہے۔
اس کے ساتھ دفاعی مشنز کے لیے اتحاد کی تیاری بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
15 ممالک نے مشترکہ بیان پر دستخط کیے
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 15 ممالک اتحاد کے مشترکہ بیان پر دستخط کرچکے ہیں۔
مزید 13 ممالک نے باضابطہ رکنیت کے لیے ضروری داخلی طریقہ کار مکمل کرلیا ہے۔
دیگر شریک ممالک بھی اپنی قومی سطح کی کارروائی مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔
وزارت کے مطابق اتحاد کا اگلا مرحلہ عملی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔
اس مرحلے میں رکن ممالک کی جانب سے تفویض کردہ مشنز کی انجام دہی بھی شامل ہوگی۔
بحیرہ احمر اور باب المندب پر توجہ
سعودی زیرِ قیادت اتحاد کا مقصد مستقل کثیر القومی دفاعی فریم ورک قائم کرنا ہے۔
اس فریم ورک کے ذریعے سمندری جہاز رانی اور اہم بحری راستوں کا تحفظ کیا جائے گا۔
عالمی تجارت اور سپلائی چینز کے تحفظ کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
اتحاد کی توجہ بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن پر ہوگی۔
یہ تینوں آبی راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یہ راستے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں۔
سعودی عرب نے گزشتہ ماہ اتحاد کا اعلان کیا تھا
سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ریاض میں ایک اجلاس کے بعد اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
اس اجلاس میں 43 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
اس کا مقصد تجارتی جہاز رانی کو درپیش بڑھتے خطرات کے درمیان بحری سلامتی کو مضبوط بنانا تھا۔
ابتدائی طور پر سعودی عرب سمیت 14 ممالک اتحاد میں شامل ہوئے تھے۔
بعد میں ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری نے مزید ممالک کی شمولیت کی توقع ظاہر کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ اتحاد اپنے مقاصد اور اصولوں سے اتفاق رکھنے والے تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا۔
اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے۔
ان کے مطابق یہ کسی مخصوص ملک، تنظیم یا اتحاد کو ہدف نہیں بناتا۔
اتحاد بین الاقوامی قانون کے مطابق کام کرے گا۔
اس کے ساتھ ریاستوں کی خودمختاری اور آزادانہ جہاز رانی کے اصول کا احترام بھی کیا جائے گا۔
