Table of Contents
تل ابیب: موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق اہم دعویٰ کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ موساد کے اہلکاروں نے ایران کی فورڈو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا۔
عبرانی میڈیا کے مطابق کوہن نے یہ بات گیلیلی فورم میں گفتگو کے دوران کہی۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دورے کب ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ فورڈو کا دورہ کرنے والے افراد کون تھے۔
فورڈو تنصیب سے متعلق دعویٰ
یوسی کوہن نے کہا کہ فورڈو کا دورہ تنصیب کو سمجھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
انہوں نے امریکی حملے پر بھی تبصرہ کیا۔ کوہن کے مطابق فورڈو پر امریکی بمباری ان کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔
ایران کی فورڈو تنصیب زیر زمین واقع ہے۔ یہاں یورینیم افزودگی کا کام کیا جاتا رہا ہے۔
فورڈو کو امریکی حملے میں نقصان
جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی۔
اس دوران امریکا نے ایران کی متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
فورڈو بھی امریکی حملوں کا ہدف بنی تھی۔ نتنز اور اصفہان کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹس کے مطابق فورڈو میں تقریباً 440 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود تھا۔
اس مواد کی موجودہ صورتحال پر مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
یورینیم کے ذخیرے پر مختلف مؤقف
کچھ رپورٹس میں کہا گیا کہ افزودہ یورینیم کو حملوں کے بعد زیر زمین دفن کیا گیا۔
اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران نے اس مواد کا کچھ حصہ دوسری جگہ منتقل کیا۔
ان مقامات میں پکیکس ماؤنٹین بھی شامل ہے۔
یوسی کوہن نے یہ بھی کہا کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم ابھی بم بنانے کی صلاحیت سے دور ہے۔
تاہم بعض جوہری ماہرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
ماہر ڈیوڈ البرائٹ کے مطابق 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ عمل چند ہفتوں یا اس سے بھی کم وقت میں ممکن ہوسکتا ہے۔
موساد کی ایران میں کارروائیوں کا ذکر
یوسی کوہن ماضی میں ایران سے متعلق موساد کی کارروائیوں پر بات کر چکے ہیں۔
انہوں نے 2021 میں موساد کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا تھا۔
اس کے چند دن بعد انہوں نے اسرائیلی ٹیلی ویژن کو ایک غیر معمولی انٹرویو دیا۔
اس انٹرویو میں انہوں نے موساد کی متعدد کارروائیوں کے بارے میں بات کی۔
نتنز تنصیب کا بھی ذکر
کوہن نے نتنز میں موساد کی کارروائی کا بھی ذکر کیا تھا۔
ان کے مطابق ایجنسی نے ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کو نقصان پہنچایا تھا۔
انہوں نے 2018 کے ایک آپریشن کی تفصیلات بھی بیان کی تھیں۔
اس آپریشن میں موساد نے تہران میں ایک مقام سے ایران کا جوہری آرکائیو حاصل کیا تھا۔
کوہن نے ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخرزادہ کے قتل کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے اس کارروائی کے حوالے سے اسرائیلی مؤقف کی تائید کی تھی۔
ایران کی جوہری سرگرمیاں توجہ کا مرکز
ایران کی جوہری سرگرمیاں کئی برس سے اسرائیل اور مغربی ممالک کی توجہ کا مرکز ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
تہران اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
یوسی کوہن کے تازہ دعوے نے ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کو عالمی توجہ میں لے آیا ہے۔
