Table of Contents
بن غازی: مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں بم دھماکے کے نتیجے میں لیبین نیشنل آرمی کے ملٹری انٹیلی جنس چیف فوزی المنصوری جاں بحق ہوگئے۔
مقامی حکام کے مطابق فوزی المنصوری کی گاڑی کو دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس سے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکا بن غازی کے علاقے ہواری میں ان کی رہائش گاہ کے باہر ہوا۔
گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا
رپورٹس کے مطابق فوزی المنصوری اس وقت اپنی گاڑی کے قریب موجود تھے۔ اسی دوران گاڑی کو نصب کیے گئے دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔
دھماکے کے نتیجے میں ملٹری انٹیلی جنس چیف شدید زخمی ہوئے۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔
حکام نے حملے میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی
مقامی حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ فوزی المنصوری پر حملے کے پیچھے کون تھا۔
کسی گروپ نے بھی فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
حملے کا محرک بھی فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا۔
لیبیا میں سکیورٹی صورتحال
فوزی المنصوری کی ہلاکت لیبیا میں موجود سکیورٹی چیلنجز کی ایک اور مثال ہے۔
2020 میں جنگ بندی کے بعد ملک میں بڑی لڑائی رک گئی تھی۔ تاہم مختلف مسلح گروہوں اور حریف انتظامیہ کا اثر و رسوخ اب بھی برقرار ہے۔
لیبیا 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی اور عسکری تقسیم کا شکار ہوگیا تھا۔
مشرقی اور مغربی دھڑوں میں تقسیم
2014 کے بعد لیبیا میں مشرقی اور مغربی حریف دھڑے نمایاں طور پر مضبوط ہوئے۔
خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبین نیشنل آرمی مشرقی اور جنوبی لیبیا کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
اس کا اتحاد بن غازی میں قائم مشرقی انتظامیہ کے ساتھ ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز دارالحکومت طرابلس میں ہے۔ یہ حکومت مغربی لیبیا کے بڑے حصے پر اثر رکھتی ہے۔
فوزی المنصوری کی ہلاکت سے ایک بار پھر ملک میں سکیورٹی اور سیاسی تقسیم سے متعلق خدشات نمایاں ہوئے ہیں۔
