Table of Contents
واشنگٹن: امریکہ اور برازیل کے درمیان جاری سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے واشنگٹن میں تعینات برازیل کی سفیر ماریا لوئیزا ریبیرو ویوٹی کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب برازیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد سفیر کی منظوری مؤخر کر دی اور دو امریکی سفارت کاروں کو ویزا جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا۔
امریکہ نے ویزا منسوخی کی وجہ کیا بتائی؟
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ اقدام سفارتی اصولوں کے تحت "باہمی کارروائی” (Reciprocal Action) کے طور پر کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے واضح کیا کہ برازیلی سفیر کو ملک بدر نہیں کیا گیا بلکہ صرف ان کا ویزا منسوخ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر برازیل امریکی نامزد سفیر کو باضابطہ منظوری دے دیتا ہے تو برازیلی سفیر کا ویزا بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔
تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جون کو ڈینیئل پیریز کو برازیل میں امریکہ کا نیا سفیر نامزد کیا تھا، تاہم برازیل نے کئی ہفتوں سے ان کی باضابطہ منظوری (Agrément) نہیں دی۔
برازیل کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی سفارتی روایات کے برعکس پہلے نامزدگی کا اعلان کیا، جبکہ اس سے قبل برازیل کی رضامندی حاصل کرنا ضروری تھا۔
برازیل نے امریکی سفارت کاروں کے ویزے بھی مسترد کیے
برازیلی حکومت نے گزشتہ ماہ امریکی محکمہ خارجہ کے دو اہلکاروں کو بھی ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔
برازیل کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کے مجوزہ دورے سے ملک کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے حکومت نے ملکی خودمختاری اور داخلی سیاست میں مداخلت قرار دیا۔
تجارتی اور سیاسی اختلافات بھی بڑھ گئے
دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازع ایسے وقت میں بڑھا ہے جب باہمی تجارتی تعلقات بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
حال ہی میں امریکہ نے برازیل کی متعدد مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جبکہ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ فیصلہ برازیل کی داخلی سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ برازیل کے ساتھ معمول کے اور شفاف سفارتی تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کو سفارتی معاملات میں باہمی تعاون کرنا ہوگا۔
مستقبل میں تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق ویزا منسوخی اور سفارتی منظوری کے تنازع سے واشنگٹن اور برازیلیا کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے جلد سفارتی اختلافات ختم نہ کیے تو اس کے اثرات تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور آئندہ سفارتی روابط پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
