اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں پیلٹ گنز کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں، بالخصوص 2016 سے 2018 کے دوران، پیلٹ گنز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا، جبکہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک اہم رپورٹ میں پیلٹ گنز کے استعمال کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کی بینائی متاثر ہونے اور متعدد افراد کے نابینا ہونے کے واقعات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق مذکورہ رپورٹ میں پیلٹ گنز کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی گئی، جبکہ ان واقعات کی دستاویزی شہادتیں موجود ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 میں جاری ہونے والی رپورٹس میں بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال اور اس کے انسانی اثرات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مختلف سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی اس معاملے کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے متاثرین، ان کی بحالی اور علاج سے متعلق رپورٹس مرتب کی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جہاں کہیں بھی پیلٹ گنز کا استعمال کیا جائے، وہ قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چاہے یہ ہتھیار بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں استعمال کیے جائیں یا خود بھارت کے دیگر علاقوں میں، پاکستان ہر صورت اس عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے تناظر میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز جیسے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کس حد تک جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت نے انہیں ہجوم پر قابو پانے کا ذریعہ قرار دے کر اس کا دفاع کیا، تاہم اس حوالے سے تمام حقائق، رپورٹس اور دستاویزی شواہد عالمی سطح پر موجود ہیں۔

