سان ڈیاگو: امریکی میرین کور کا ایک F-35B اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں میرامار ایئر بیس کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، تاہم پائلٹ بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا اور اس کی جان بچ گئی۔
امریکی میرین کور نے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے سے قبل پائلٹ نے طیارے سے محفوظ انداز میں چھلانگ لگا دی تھی۔ اسے معمولی زخمی حالت میں مقامی طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
حادثے کے بعد جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی فضائی ویڈیو میں ملبے سے سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا، جبکہ متعدد فوجی اہلکار، فائر فائٹنگ ٹیمیں اور امدادی گاڑیاں موقع پر موجود رہیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز نے فوم اور دیگر آگ بجھانے والے مواد کا استعمال کیا۔
سان ڈیاگو فائر ریسکیو کی ترجمان کینڈیس ہیڈلی نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں اردگرد جھاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز فوری طور پر متحرک ہوئے۔
میرامار ایئر بیس امریکی فوج کی ایک اہم تنصیب ہے، جو ماضی میں مشہور نیوی فائٹر پائلٹ ٹریننگ اسکول "ٹاپ گن” کی میزبانی بھی کر چکی ہے۔ یہ اسکول بعد ازاں 1996 میں نیواڈا منتقل کر دیا گیا تھا۔
امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹنگ آفس (GAO) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، امریکی میرین کور، بحریہ اور فضائیہ کے پاس مجموعی طور پر 630 سے زائد F-35 طیارے موجود ہیں، جبکہ اس پروگرام کی مجموعی لاگت تقریباً 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا F-35B اسٹیلتھ فائٹر طیارے کا وہ ماڈل ہے جو مختصر رن وے سے ٹیک آف اور عمودی لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ایک طیارے کی مالیت تقریباً 109 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔
امریکی میرین کور نے اس واقعے کو "کلاس اے حادثہ” قرار دیا ہے، جو امریکی فوج میں حادثات کی سب سے سنگین درجہ بندی ہے۔ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب حادثے میں ہوائی جہاز مکمل طور پر تباہ ہو جائے، نقصان کی مالیت 20 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر جائے یا کسی فوجی اہلکار کی جان چلی جائے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

