غزہ، حماس کے سینئر عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ہتھیاروں کے انتظام اور اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی ہتھیاروں کی فہرست سازی اور ذخیرہ کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حماس کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ معاہدے میں حماس کے ہتھیاروں سے متعلق انتظامات اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے تدریجی انخلا کا طریقہ کار شامل ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہتھیاروں کے معاملے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا پر بھی معاہدہ طے پایا ہے۔ ان کے مطابق اب فلسطینی مزاحمتی گروپ ثالث ممالک اور بورڈ آف پیس سے توقع رکھتے ہیں کہ اسرائیل بھی معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرے گا۔
ایک دوسرے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ معاہدے کے تحت بورڈ آف پیس کی سرپرستی میں قائم غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی (National Committee for the Administration of Gaza – NCAG) ہتھیاروں کی فہرست سازی، اندراج اور محفوظ ذخیرہ کرنے کے عمل کی ذمہ دار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی پہلے سے طے شدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ہتھیاروں کی رجسٹریشن اور ذخیرہ کرنے کے مراحل مکمل کرے گی، جبکہ غزہ میں ہتھیار رکھنے، محفوظ کرنے یا ان پر کنٹرول رکھنے کی مجاز واحد اتھارٹی بھی یہی قومی کمیٹی ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی تخفیف اسلحہ سے متعلق ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس مجوزہ فریم ورک پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے اب بھی بعض تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

