دبئی: عمان نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور وہاں سے بحری تجارت کی بحالی کے لیے ایران کو ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کے دوران بحری راستے کو محفوظ بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خلیجی ذرائع اور ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ عمانی تجویز کو خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم ایران نے تاحال اس پر باضابطہ جواب نہیں دیا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارت کو درپیش مشکلات کم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں، جس سے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
ایران کا مؤقف رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں اپنا کردار چاہتا ہے اور یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کرنے کا حق رکھتا ہے۔
عمانی منصوبے میں ایران کو مکمل اختیار نہیں ہوگا
ذرائع کے مطابق عمان کی تجویز کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہوگا، جبکہ فیس کا نظام لازمی کے بجائے رضاکارانہ ہوگا۔
اس منصوبے کو آبنائے ملاکا کے نظام سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں بعض ممالک جہازوں سے نیویگیشن، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو سرگرمیوں کے لیے رضاکارانہ تعاون حاصل کرتے ہیں۔

