ڈھاکا: بنگلہ دیش میں سیاسی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آکر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق تین باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر محمد شہاب الدین نے اپنے استعفے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم طارق رحمان کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق باضابطہ اعلان جمعہ کو متوقع ہے، تاہم صدر کے دفتر نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
گزشتہ سال بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے شیخ حسینہ کو 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے، تاہم شیخ حسینہ نے تمام الزامات مسترد کر رکھے ہیں۔
شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ وطن واپسی کی خبروں کے بعد موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ عوامی لیگ سے وابستہ باقی اعلیٰ عہدیداروں کو بھی عہدوں سے ہٹائے۔
محمد شہاب الدین 2023 میں عوامی لیگ کی حمایت سے بلا مقابلہ پانچ سالہ مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا عہدہ زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے، تاہم وہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر صدر مستعفی ہوتے ہیں تو پارلیمنٹ کے اسپیکر حافظ الدین احمد مستقل صدر کے انتخاب تک عبوری صدر کی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کی متوقع واپسی اور صدر کے ممکنہ استعفے سے بنگلہ دیش کی سیاست ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جس کے ملکی استحکام اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

