واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان نے مالی سال 2027 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) کا اپنا ورژن منظور کر لیا ہے، جس کے تحت فوجی اخراجات کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔ اس قانون کو امریکی تاریخ کے بڑے دفاعی اخراجاتی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
بل ایوانِ نمائندگان میں 216 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے منظور ہوا۔ ووٹنگ زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر ہوئی، جہاں بیشتر ریپبلکن ارکان نے بل کی حمایت جبکہ زیادہ تر ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔
منظور شدہ بل میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ فوجی منصوبوں اور دفاعی تعاون کے لیے سینکڑوں ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بل پر بحث کے دوران ترقی پسند ڈیموکریٹ ارکان نے ان شقوں پر اعتراض کیا جن کے تحت امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تعاون میں مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ تاہم یہ ترامیم ایوان میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکیں۔
ڈیموکریٹک ارکان نے دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافے پر بھی تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک جانب سماجی بہبود کے مختلف پروگراموں کے بجٹ میں کمی کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دفاعی شعبے کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں۔
بل پر ہونے والی بحث کے دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے اخراجات بھی زیرِ بحث آئے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق ایران سے متعلق فوجی آپریشنز پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
یہ بل اب امریکی قانون سازی کے اگلے مراحل سے گزرے گا، جس کے بعد اس کی حتمی منظوری کا عمل مکمل ہوگا۔

