ماسکو: روس نے اٹلی کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے درمیان دو اطالوی سفارت کاروں کو "پرسونا نان گراٹا” قرار دیتے ہوئے تین روز کے اندر اپنے اہل خانہ سمیت روس چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام اٹلی کی جانب سے روسی سفارت خانے کے دو فوجی اتاشیوں کو مبینہ جاسوسی کی سرگرمیوں کے الزام میں ملک بدر کرنے کے جواب میں باہمی (Tit-for-Tat) کارروائی کے طور پر کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اٹلی کے اسسٹنٹ دفاعی اتاشی ویتوریو پریلا (Vittorio Parrella) اور اتاشی ڈیوڈے ڈی اپرائل (Davide D’Aprile) کو "پرسونا نان گراٹا” قرار دیا گیا ہے، اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ تین دن کے اندر روس چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
روسی حکام نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر اٹلی کے قائم مقام ناظم الامور جیوانی اسکوپا کو وزارت خارجہ طلب کر کے روس کے فیصلے سے باضابطہ آگاہ کیا گیا۔
دوسری جانب اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے روس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے روسی فوجی اتاشیوں کو مبینہ جاسوسی کی بنیاد پر ملک بدر کیا تھا، جبکہ ماسکو کا ردعمل "بغیر کسی جواز” کے ہے۔
واضح رہے کہ 9 جولائی کو اٹلی نے روسی سفارت خانے کے دو فوجی اتاشیوں کو مبینہ جاسوسی کی سرگرمیوں کے الزام میں ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

